گولان ہائٹس سے متعلق فلسطینی اور شامی اقوام کے حقوق کا ضیاع انتہائی تشویشناک اور خطے کیلئے خطرہ ہے، ڈاکٹر حسن روحانی

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بدھ کے روز عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے نئے ایرانی سال کی ابتداء پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ عراق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ اس دورے میں طے پانے والے انتہائی اہم اور تاریخی معاملات کو عملی جامہ پہنانے کو تیار ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اپنی نئی بلندیوں کو چھو لیں گے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے عراقی حکومت اور عوام کی طرف سے ایران کے اعلی سطحی وفد کے بغداد، کاظمین، کربلا، نجف اور کوفہ کے دورے کے دوران شاندار استقبال پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ویزے کی مفت سہولت فراہم کئے جانے کو دونوں ممالک کی عوام کی زیادہ سے زیادہ آمدورفت کے لئے ایک انتہائی موثر قدم قرار دیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ خطے میں امن و امان اور استحکام تب تک ممکن نہیں جب تک تمام علاقائی اہم ممالک آپس میں مل بیٹھ کر باہمی اختلافات کو حل نہ کر لیں اور آپس میں وحدت اور باہمی تعاون کی فضا کو فروغ نہ دیں۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے امریکی صدر کی طرف سے غاصب صیہونی حکومت کے گولان ہائٹس پر غیر قانونی قبضے کو تسلیم کر لینے کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غاصب صیہونی حکومت کے طمع و لالچ اور واشنگٹن کے غلط فیصلوں کے تناظر میں علاقائی ممالک کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔ فلسطینی اور شامی اقوام کے بالخصوص گولان ہائٹس کے حوالے سے حقوق کے ضیاع پر مبنی فیصلہ پورے خطے کے امن و امان کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ امید ہے کہ علاقائی ممالک کے درمیان نزدیکی تعاون خطے میں متوقع تناو کی فضا کو پیدا نہ ہونے دے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنی گفتگو کے دوران عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی کو ایران کے سرکاری دورے پر آنے کی دعوت بھی دی۔

دوسری طرف عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے ایرانی صدر کو نئے ایرانی سال کی ابتداء پر نوروز کی مبارکباد اور ایران میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے مختلف شہروں میں آنے والے سیلاب اور متعدد ایرانی شہریوں کے جانبحق ہونے پر تسلیت بھی پیش کی۔ انہوں نے ایران اور عراق کے درمیان دوستانہ تعلقات کو تیزی سے توسیع کی طرف گامزن قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا عراق کا دورہ اور اس دورے کے دوران حاصل ہونے والے بہترین توافق وہ عظیم کامیابیاں تھیں جو دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو دسیوں سالوں تک مزید مضبوط کرتی رہیں گی۔ عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے اپنی گفتگو کے آخر میں صدر اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے ایران کے سرکاری دورے کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کا ایران کا متوقع سرکاری دورہ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ اور بہت جلد انجام پائے گا۔

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*