آخر مسئلہ فلسطین و کشمیر کا حل کیا ہے۔؟

دہائیاں بیت گئیں ہم مسئلہ فلسطین اور کشمیر میں مظالم کی خبریں سن رہے ہیں، آئے روز کا قتل و غارت، تشدد، گرفتاریاں، بنیادی انسانی حقوق کی پامالیاں، محاصرے، آگ و خون کی بارش، افواج کا ظلم و ستم کشمیری و فلسطینی مسلمانوں کا مقدر بن چکا ہے۔ ہم یہ بھی سنتے ہیں کہ اقوام عالم نے ان دونوں قضیوں کے حوالے سے بہت سی قراردادیں بھی پاس کی ہوئی ہیں، تاہم جن کے خلاف قراردادیں منظور ہوئی ہیں نہ تو ان کو ان قراردادوں سے کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی ان کے کانوں پر جوں رینگتی ہے۔ دنیا کے ممالک ان غاصبوں کے ساتھ تجارت بھی کرتے ہیں اور روابط بھی رکھتے ہیں، بعض اوقات تو ان قاتلوں اور ان حامیوں میں فرق کرنا ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ بالکل جنگل کے قانون سی کیفیت ہے یعنی جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہے بھینس اسی کی ہے۔ امریکا بہادر دنیا کے ان سب بدمعاشوں کا سرغنہ ہے، کبھی چھپ کر ان کی حمایت کرتا ہے تو کبھی کھلے بندوں غاصبوں کے ہر عمل کو درست قرار دیتا ہے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ نے رپورٹ شائع کی ہے، جس میں اسرائیل کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا قضیہ تحریر ہے۔ ہزاروں کاغذوں کی طرح یہ رپورٹ بھی کسی الماری کی زینت بن جائے گی اور زمین پر غزہ میں اسرائیلی طیارے آگ برساتے رہیں گے۔ کشمیر اور فلسطین کے قضیوں کی الگ الگ تاریخ ہے، لیکن ظلم ایک ہی طرح کا ہے۔ ایک ہی بے بس و لاچار قبیلہ ہے، جس کے بھائی دنیا میں ایک طاقت ہیں تاہم یہ بے بس و لاچار قبیلہ، تنہا ہی غاصب و جارح کے مظالم برداشت کر رہا ہے۔ قضیہ فلسطین میں بہت سے ممالک ایک ایک کر کے ہتھیار ڈال کر فرار کی راہ اختیار کر چکے، جبکہ کشمیر کے قضیے میں اہم پارٹی یعنی پاکستان رسمی طور پر ہی سہی اب بھی اس مسئلہ پر آواز بلند کرتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ رونا ہی کیا کم تھا کہ افغانستان اور یمن میں بھی ایسے ہی مظالم سامنے آنے لگے۔

افغانی گذشتہ تین دہائیوں سے خون آلود ہیں اور اب یمنی 2011ء سے اپنی آزادی اور استقلال کی خواہش کی قیمت چکا رہے ہیں۔ کوئی بھی درد دل رکھنے والا انسان یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آخر کب تک انسانیت پر یہ ظلم جاری رہے گا اور دنیا اس پر خاموش رہے گی۔ انسانی ضمیر اس سے سوال کرتا ہے کہ ہر روز بہنے والا انسانی خون کیا اس قدر ارزاں اور بے وقعت ہے کہ اس کے ناحق بہ جانے پر کسی کی نیند یں حرام نہیں ہوتیں۔ یہ مظلومین و مستضعفین جہان جو فلسطین میں ہوں یا کشمیر میں، افغانستان میں ہوں یا یمن میں، شام میں ہوں یا لیبیا میں نائجیریا میں ہوں یا دنیا کے کسی اور کونے میں آخر کس کو مدد کے لیے پکاریں۔ کیا انسانیت اسی کا نام ہے۔؟ گذشتہ دور ہدایت جو انبیاء الہی کی آمد کا زمانہ تھا اور جس میں خدا نے ہمیں انسانیت کے معیارات سے روشناس کروایا تھا سے ہم نے یہی کچھ سیکھا اور سمجھا ہے کہ انسان بھوک پیاس، ادویات کی کمی، گولہ باری، دھماکوں سے مرتا رہے اور ہماری حالت میں ذرہ بھر تغیر نہ آئے۔

چرچ، مندر، گردوارے، استھان، مسجد اور ان میں کی جانے والی اجتماعی و انفرادی عبادات کا کیا فائدہ کہ انسان میں خوف خدا کی رمق بھی نہ ہو۔ احساس آدمیت ہی نہ ہو۔ اگر جانوروں میں ذرا بھی شعور ہوتا تو وہ ہم انسانوں کو کیسے دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہوتے کہ ہم جو بے شعور کہلاتے ہیں، درندے گردانے جاتے ہیں، تہذیب و تمدن سے عاری سمجھے جاتے ہیں، انسانوں سے قدیم ہیں تاہم ہم نے کبھی یہ کچھ نہیں کیا جو آج انسان اپنی ہی نوع کے انسانوں کے ساتھ کر رہا ہے۔ اگر یہی شعور، انسانیت اور تہذیب و تمدن ہے تو ہم بے شعور، جانور اور بد تہذیب ہی بھلے۔ کائنات کی دیگر مخلوقات ہمیں کس نگاہ سے دیکھتی ہوں گی، مجھے نہیں معلوم ہے تاہم بحیثیت انسان یہ سوال ذہن میں ضرور پیدا ہوتا ہے۔ آخر کب تک ہم اپنے ہوس اقتدار کو انسانی لہو سے سینچتے رہیں گے، آخر کب تک یہ بستی خون رنگ رہے گی۔ آخر ان مسائل کا کیا حل ہے۔؟

جو لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ ہمارے عالمی امن کے ادارے ان قضیوں کے حل کے لیے کوئی مناسب پلیٹ فارم ہیں، ان کی سادگی پر حیرت کے سوا کیا ردعمل دیا جاسکتا ہے۔ ستر برس کوئی کم عرصہ نہیں ہے اگر واقعی اقوام عالم کو یقین ہوتا کہ ظلم بری چیز ہے اور یہ مظلوم پر کس قدر گراں ہوتا ہے تو شاید یہ مسائل اس قدر طول نہ کھینچتے۔ اگر انسانوں میں احساس ذمہ داری ہوتا اور انہیں اپنی انسانیت کا ذرا بھی پاس ہوتا تو کشمیریوں، فلسطینیوں اور یمنیوں کو ان کا جائز حق دینے میں کوئی مشکل درپیش نہ تھی۔ شاید ایسے ہی مواقع کے لیے اسلام نے قتال و جہاد کو واحد حل قرار دیا ہے۔ اسلام جو سلامتی کا دین ہے ، معاشرے میں امن کا داعی ہے قتال و جہاد کو اسی لیے لازم قرار دیتا ہے کہ بعض ناسور وں کا قلع قمع کرنے کے لیے قربانی درکار ہے ۔کچھ پاک خون زمین پر بہتا ہے تبھی جا کر معاشرے سے فساد کی بیخ کنی ہوتی ہے۔
میری نظر میں طاقت کا جواب طاقت ہی ہے، ظلم کی بیخ کنی قربانی مانگتی ہے۔ فلسطینی اور کشمیری نسلوں سے قربانیاں پیش کر رہے ہیں تاہم انھیں اپنی حرکت کو مزید سریع تر کرنا ہوگا۔ ان کا دشمن نہایت شاطر ہے اور ڈھٹائی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ اس شاطر اور پست دشمن کا مقابلہ جرات و پامردی سے کرنا ہوگا۔ ایک قوم کو اٹھنا ہو گا جو اپنا سب کچھ آنے والے کل کے لیے قربان کرنے پر آمادہ ہو۔ انھیں فقط اور فقط اپنے زور بازو اور خدا کی نصرت پر انحصار کرتے ہوئے اپنی تحریک آزادی کو آگے بڑھانا ہوگا اور اسے آزادی کے منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔ اسلام کی تاریخ میں واقعہ کربلا اس انحصار کی بہترین مثال ہے۔ کربلا دنیا کے تمام مستضعفین اور مظلومین کے لیے اسوہ بھی ہے، ہدایت کا مینارہ اور روشن چراغ بھی۔

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*