ایران میں سیلاب – سید ابنِ حسن

گذشتہ تقریبا دو ہفتے سے ایران میں شدید بارشوں کے بعد ندی, نالے, دریا اور ڈیم بھر جانے کیوجہ سے ایران کے 31 میں سے 15 صوبے اس وقت سیلاب کی زد میں ہیں جن میں سے 4 صوبے گلستان, لرستان, خوزستان اور فارس شدید متاثر ہوئے ہیں.

ندی نالوں اور دریاوں سے نکلنے والے سیلابی پانی کے اچانک شہروں میں داخل ہو جانے کیوجہ سے اب تک مجموعی طور پر تقریباً 100 افراد جان بحق, سینکڑوں زخمی اور ہزاروں بے گھر ہوچکے ہیں.

4 صوبوں میں ایمرجنسی نافذ اور صوبہ لرستان کے 77 دیہاتوں میں صورتحال انتہائی گھمبیر ہے جن میں سے چند قصبوں سے زمینی رابطہ ہی منقطع ہو چکا اور وہاں سے لوگوں کو نکالے جانے کا کام صرف ہیلی کاپٹرز کے ذریعہ ممکن ہے.

صوبہ لرستان کے قصبہ پلدختر, صوبہ گلستان کے شہر آق قلا اور صوبہ خوزستان کے شہر خرم آباد کے مضافاتی قصبے دلفان میں سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے اور بعض جگہوں پر پانی کی سطح گھروں کی چھتوں سے بھی بلند ہے. صوبہ فارس کے شہر شیراز میں آنے والے اچانک سیلابی ریلے نے بھی سرکاری اطلاعات کے مطابق 19 افراد کو لقمہ اجل بنا دیا تھا. متاثرہ صوبوں کے متعدد شہروں اور قصبوں کو قبل از وقت خالی کروا لیے جانے کیوجہ سے جانی نقصان کم ہوا ہے. صوبہ قم کے مرکزی شہر قم المقدس کے وسط سے گزرنے والا نالہ بھی کسی وقت پانی باہر نکال اور شہر کے نشیبی علاقوں کو زیر آب لا سکتا ہے.

علاوہ ازیں گذشتہ روز یعنی یکم اپریل بروز پیر چند ایک شہروں جیسے نائن, یزد و دیگر میں شدید طوفان بھی آیا ہے جس کے بعد جانی و مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے.

ایرانی حکومت کے تمام عسکری, نیم عسکری, سول و دیگر ادارے سیلاب زدہ علاقوں سے افراد کو نکالنے و دیگر امدادی کاروایوں میں مصروف ہیں. سیلابی پانی کے بہاو کا رخ موڑنے اور شہروں سے جلد نکاسی کے لیے چند ایک سڑکوں, پلوں اور ٹرین کی پٹڑیوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا بھی گیا ہے. ملک میں متعدد سڑکیں, چند ایک موٹر ویز اور ایک آدھ ٹرین ٹریک بھی زیر آب آجانے کیوجہ سے بند ہیں.

فی الحال سیلاب کے مقابلے میں انسانی جانیں بچانے کا چیلنج درپیش ہے. اس سیلاب سے فصلوں, مال مویشیوں, مکانوں, گاڑیوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کا ہونے والا نقصان کس نوعیت اور کس حجم کا ہوگا اس کا تخمینہ موجودہ خطرہ ٹل جانے کے بعد لگایا جاسکے گا.

حکومت نے قوم سے موت کا خطرہ ٹل جانے کے بعد سیلاب کی وجوہات کی تحقیق کا بھی عندیہ دیا ہے. کوتاہی برتنے والے مرکزی و مقامی حکومتوں کے اہلکاروں کا مواخذہ بھی سننے میں آرہا اور گذشتہ روز ایذہ نامی شہر کے سٹی ناظم کو ذمہ داریوں کی انجام دہی میں غفلت پر معطل بھی کیا جا چکا ہے مگر ان سب اقدامات کی نوبت تب آئے گی جب سیلاب میں محصور عوام کی جانیں بچائی جا چکی اور عوام سے سیلابی پانی کے ہاتھوں موت کا خطرہ ٹل چکا ہوگا.

مددگار ٹیموں کو سیلاب میں محصور افراد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری بشمول امدادی ہیلی کاپٹرز و دیگر کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے اور یہ اس وقت ہے جب امریکہ کی نئی پابندیوں کیوجہ سے ایرانی ادارے بشمول ایرانی ھلال احمر جو چیزیں نہیں خرید سکتے ان میں سے ایک امدادی ہیلی کاپٹرز بھی ہیں.

ایرانی حکومت نے اس بحرانی صورتحال میں بین الاقوامی برادری سے اب تک مدد تو نہیں مانگی لیکن ایرانی وزیر خارجہ کی آج کی ٹوئیٹ سے لگتا ہے ایرانی اداروں پر امریکہ کی طرف سے خرید و فروش حتی امدادی مشینری جیسے امدادی ہیلی کاپٹرز کی خریداری کی پابندی ایرانی عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہے.

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی ٹوئیٹ میں ایرانی اداروں پر بین الاقوامی کمپنیوں سے امدادی مشینری کی خریداری کی امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دیا ہے.

قدرتی آفات اقوام کی زندگی کا معمول ہیں لیکن جو چیز آفات گزر جانے کے بعد بھی یاد رکھی اور اقوام کی زندگی پر ہمیشہ اثر انداز ہوتی رہتی ہے وہ آفت کے مقابلے میں قوم کا اپنا, حکومت اور آفت زدہ قوم کی نسبت دیگر اقوام کا ردعمل ہے.

“خدایا نیار باران کہ ایران غرق آب است”

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*