کوئٹہ میں خودکش دھماکہ، 16 افراد شہید 51 زخمی

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ ضیا اللہ لانگو کے مطابق خودکش دھماکہ جمعے کی صبح ہزار گنجی کے علاقے میں واقع مارکیٹ میں ہوا اور شہید ہونے والوں میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 16 افراد کے علاوہ ایک سکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔

وزیر داخلہ نے جمعے کی دوپہر پریس کانفرنس میں بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا جبکہ اس سے قبل ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبد الرزاق چیمہ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ دھماکہ آلو کے گودام میں ہوا ہے۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہید اور زخمی ہونے والے افراد کو سول ہسپتال، بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا۔

سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان وسیم بیگ نے بتایا کہ سول ہسپتال میں 11 لاشیں لائی گئی ہیں جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

اس واقعے کے کچھ دیر بعد جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبد الرزاق چیمہ نے بتایا کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے پھل اور سبزی فروشوں کو سکیورٹی میں ہزار گنجی منڈی لایا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ جب ان لوگوں کو لایا جاتا ہے تو سکیورٹی اہلکار چار مرکزی دروازوں پر ڈیوٹی دینے کے علاوہ مارکیٹ میں بھی گشت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد آلوؤں کے گودام پر آئے تو زوردار دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں ہزارہ قبیلے کے علاوہ دیگر برادریوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔

اس علاقے میں پہلے بھی ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے سبزی اور پھل فروشوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ماضی میں ہونے والے حملوں کے پیش نظر انہیں مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن کے علاقوں سے سکیورٹی میں لایا جاتا ہے اور سبزی اور پھلوں کی خریداری کے بعد واپس لے جایا جاتا ہے۔

ہزارہ قبیلے کے لوگوں کا تعلق شیعہ مسلک ہے۔ انہیں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ان حملوں کے پیش نظر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جن کے پیش نظر حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے ان پر حملوں میں کمی آئی ہے۔

اس واقعہ کے خلاف ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا ہے۔ شہر کے مغربی بائی پاس لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی اور انہوں نے ٹائر جلا کر اسے آمد و رفت کے لیے بند کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ واقعے کے تیسرے روز تک شیعہ ہزارہ برادری کا دھرنہ جاری ہے جبکہ حکومتی سطح کے کسی نمائندے نے ابھی تک مظاہرین سے رابطے کی کوشش نہیں کی گئی۔

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*