دہشت گردی کو مذہبی رنگ دے کر اسے تباہ کن بنانے کی تاریخ – قسط اول

سامراجی اور نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف جنگوں میں بھی جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد شروع ہوئیں، جنگجو حریت پسندوں نے کبھی اپنے ہی عوام کو نشانہ نہیں بنایا تھا بلکہ ان کی ہٹ لسٹ پر ہمیشہ قابض حکمران اور ان کے فوجی ہوا کرتے تھے جبکہ عوام ان کے حلیف اور ہمدرد ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی آزادی کی ایسی تمام خونریز تحریکیں بھی کامیابی سے ہمکنا ر ہوئیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے درمیان جنگیں صرف اور صرف معاشی مفادات اور قومی بالادستی کے جذبے کے تحت لڑی جاتی رہی ہیں جبکہ مذہب، زبان، فرقہ واریت، علاقائیت اور قومیت وغیرہ کو ایک اضافی طاقت یا بلیک میلنگ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے کیونکہ دنیا کی اکثر بڑی بڑی جنگوں میں ایک ہی مذہب کو ماننے والے مدمقابل تھے۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں متحارب قوموں میں سے اکثر عیسائی ممالک کی تھیں۔ اسی طرح حالیہ دور میں ایران، عراق اور کویت جنگوں کے دوران بھی متحارب قوتیں مسلمان ہی تھیں۔ عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان دو سو سال سے زائد عرصہ تک جاری رہنے والی صلیبی جنگیں بھی عیسائی راہبوں نے معاشی وجوہات کی بنا پر شروع کیں اور انہیں مذہبی جنگ کا نام دے دیا گیا۔

اس تمہید اور تاریخ کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ نے 1970ء کی دہائی کے آخر میں سوویت یونین کی پیش قدمی کو روکنے اور اپنے معاشی اور قومی بالادستی کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ’’صلیبی جنگوں‘‘ کے دورِ کے فارمولے کو چند تبدیلیوں کے ساتھ افغانستان میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جیسے ’’ریگن ڈاکٹرائن‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس ڈاکٹرائن کے تحت امریکہ نے خطے میں اپنے سب سے اہم حلیف پاکستان کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے ذریعے افغان مزاحمت کاروں کو ’’قومی مزاحمتی جنگ‘‘ کی بجائے ’’عالمی اسلامی جہاد‘‘ کے بینر تلے جمع کیا۔ جنگِ افغانستان میں سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد دنیا میں طاقت کا توازن خطرناک حد تک بگڑ گیا اورپوری دنیا امریکہ کے یک طاقتی نظام (Unipolar System) کے شکنجے میں آگئی۔ چنانچہ ہر فاتح کی طرح امریکہ نے ایک نیو ورلڈ آرڈر کا اعلان کر دیا جس کا مقصد دنیا کو امریکی مفادات کے تحت نئے سرے سے تقسیم کرنا تھا۔ ہمارے فاتحینِ افغانستان صرف اسی بات پر جشن مناتے رہے کہ انہوں نے دنیا کی ایک بڑی سپر پاور کو ختم کر نے میں ہراول دستے کا کام کیا ہے لیکن کیا سوویت یونین کے زوال کے بعد ہم نے اس کی جگہ لے لی تھی یا اسلام کا بول بالا ہو گیا تھا؟ درحقیقت اس واقعے کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان اور مسلم ممالک کا ہوا جہاں امریکی سامراج نے بڑی تیزی سے اپنے پنجے گاڑنے شروع کردئیے۔ تیل کے چشموں پر قبضہ دونوں بڑی طاقتوں کا خواب تھا۔ جہاں سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ہی امریکی پالیسی سازوں نے اگست 1990ء میں صدام حسین کو پہلے شہ دیکر کویت پر قبضہ کرایا اور پھر اس کے خلاف ایک خونریز فوجی تصادم کے ذریعے خود کویت پر قابض ہوگئے یوں امریکہ کا تیل کی دولت سے مالا مال مسلم ممالک پر قبضہ کرنے اور پوری دنیا پر بِلا شرکتِ غیرے حکومت کرنے کا نصف صدی پرانا خواب پورا ہوگیا۔ ادھر افغانستان میں جنگ کے دوران ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر ’’قومی آزادی‘‘ کی جس تحریک کو مذہبی جنگ میں تبدیل کر دیا تھا اس میں شامل مجاہدین سوویت یونین کے منظر سے ہٹتے ہی پہلے ڈاکٹر نجیب کی حکومت کے ساتھ اور پھر اس کے بعد آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔ یوں اسلام کی خاطر لڑنے والے اب ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے۔ ان مجاہدین کو بندوق کے زور پر مخالفین کو قتل کرنے کا کھلا لائسنس مل گیا تھا۔ جب تک یہ مجاہدین سوویت یونین اور ایسی دیگر طاقتوں کے خلاف لڑتے رہے ہمارے حکمران خوش رہے لیکن جب امریکہ نے 9/11 حملوں کے بعد افغانستان پر یلغار کر دی تو راتوں رات جنرل مشرف کو حقیقت یاد آ گئی کہ یہ لوگ مجاہدین نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں۔ ان مجاہدین نے جو اب دہشت گردوں کا روپ اختیار کر چکے تھے ہمارے ساتھ جو غیر انسانی، غیر اسلامی اور بہیمانہ سلوک کرنا شروع کر دیا جو شاید ہلاکو خان اور چنگیز خان نے بھی نہ کیا ہو۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کے تعاون سے لگنے والی دہشت گردی کی اس فیکٹری کو جس میں خودکش بمبار تیار کئے جاتے ہیں، کون مالی امداد فراہم کر رہا ہے؟ کون ان کی لاجسٹک سپورٹ کر رہا ہے؟ اس کا نقصان تو ہم بھگت رہے ہیں تو فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ کیونکہ دہشت گرد اس مہلک ہتھیار کی شکل اختیار کر چکے ہیں جنہیں کوئی بھی خرید کر کسی کے خلاف بھی استعمال کر سکتا ہے۔ ان سب سوالوں کا جواب ایک ہی ہے کہ آج بھی ان کے پیچھے وہی طاقتیں ہیں جنہوں نے انہیں تشکیل دیا تھا کیونکہ وہ اس کی آڑ میں اس علاقے میں اپنی موجودگی کو برقرار اور مستحکم رکھنا چاہتی ہیں۔ ہم جب تک اس کی اندرونی اور بیرونی وجوہات کا حقائق کی روشنی میں تجزیہ نہیں کرتے اور ایک موثر لائحہ عمل مرتب نہیں کرتے یہ جنگ ہمارے قومی وجود کے لئے ایک جان لیوا خطرہ بنی رہے گی۔

جاری ہے

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*