سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے لاپتہ افراد کی تفصیلات طلب

 سندھ ہائیکورٹ نے 40 سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر وزارت دفاع اور وزارت داخلہ سے ملک بھر کے حراستی مراکز میں قید ملزمان کی رپورٹ طلب کرلی۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو اور جسٹس کے کے آغا کے روبرو 40 سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

لاپتہ سید حسین احمد کی بہن عدالت میں پیش ہوئی اور کہا کہ میرے بھائی کا کیس ملٹری کورٹ میں چل رہا ہے لیکن اس سے ملنے نہیں دیا جاتا، نہ ہمیں بتایا جارہا ہے کہ کس الزام میں کیس چلایا جارہا ہے، عدالتیں حکم جاری کرتی ہیں مگر کوئی مانتا نہیں ہے کہتے ہیں یہ سب کاغذ کے ٹکڑے ہیں، جب کوئی حکم مانتا ہی نہیں تو بند کردیں یہ عدالتیں، اگر ملوایا نہیں جارہا تو ٹی وی پر لاش ہی دکھا دیں۔

عدالت نے وزارت دفاع اور وزارت داخلہ سے ملک بھر کے حراستی مراکز میں قید ملزمان کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے اگر آئندہ سماعت پر ملک بھر کے حراستی مراکز کی رپورٹ نہیں آئی تو عدالت خود کوئی فیصلہ جاری کرے گی۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے کہا کہ دیکھیں کس طرح سرکاری اداروں کی نا اہلی کا ملبہ عدالتوں پر آتا ہے۔ کیس کی مزید سماعت 23 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*