سعودی حکومت نے شیعہ علماء سمیت 37 افراد کے سر قلم کردیئے

سعودی عرب نے 37 افراد کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے سر قلم کردیے۔ سر قلم ہوئے افراد کا تعلق مکہ، مدینہ سمیت سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی صوبے عوامیہ سے تھا جبکہ ان میں سے کئی ایک افراد کا تعلق سعودیہ عرب کے قدیم ترین قدامت پرست سنی عرب قبائل سے تھا۔

زیادہ تر افراد ان میں محض آل سعود کی حکومت کے سیاسی ناقد تھے۔ سر قلم کیے جانے والوں میں ایک سعودی شہری عوامیہ صوبے کے معروف شیعی اثناء عشری عالم بھی تھے۔

سعودی عرب نے اس سے پہلے شیخ باقر النمر نامی شیعہ رہنماء کا سر قلم کردیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ جن افراد کا سر قلم کیا گیا ان میں سے زیادہ تر شیعہ مرد تھے جنھیں ایسے جعلی مقدمات کے ذریعے مجرم ٹھہرایا گیا جو انصاف کے بین الاقوامی معیار کے منافی ہیں اور ان کا انحصار تشدد کے بعد زبردستی لیے گئے اعترافِ جرم سے تھا۔

تنظیم کے مطابق جن افراد کا سر قلم کیا گیا ان میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جسے اس وقت مجرم ٹھہرایا گیا جب اس کی عمر صرف 18 سال تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان 37 افراد کے سر قلم کیے جانے کو سعودی عرب میں، سزائے موت میں ایک خطرناک اضافہ قرار دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی محقق لین مالوف کا کہنا ہے ’بڑے پیمانے پر دی گئی موت کی سزا، سعودی حکام کے انسانی زندگی کی طرف سخت رویے کو ظاہر کرتی ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا ’یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ کیسے سزائے موت کو ایک حربے کے طور پر استعمال کر کے سعودی عرب میں موجود شیعہ اقلیت میں اختلاف رکھنے والوں کو کچلا جا رہا ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سزائے موت پانے والے افراد میں سے 11 مردوں پر ایران کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام تھا جنھیں ’ایک انتہائی غیر منصفافہ مقدمے کے بعد سزائے موت دی گئی۔‘

اس کے علاوہ 14 افراد کو سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی آبادی والے مشرقی صوبے میں سنہ 2011 اور 2012 کے درمیان ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے جیسے جرائم کی بنا پر سزائے موت دی گئی۔

ایمنسٹی کے مطابق یہ 14 افراد ایک طویل عرصے سے زیرِ حراست تھے اور مقدمات کا سامنا کر رہے تھے جس کے دوران انھوں ںے عدالت کو بتایا تھا کہ جرم کا اعتراف کروانے کے لیے دورانِ تفتیش ان پر تشدد کیا جاتا رہا اور برے سلوک کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*