پاک ایران کشیدگی اور گریٹر بلوچستان – سید جواد حسین رضوی

سانحۂ اورماڑہ جس میں یقینی طور پر بلوچ علحدگی پسند تنظیم ملوّث تھی، اس کے بعد پاکستان نے پہلی بار یہ بتایا کہ یہ دہشتگرد ایران سے آئے تھے۔ اس سے قبل ایران اس حوالے سے شکایت کناں رہا ہے کہ پاکستان سے ایران مخالف یا تکفیری دہشتگرد ایرانی سرزمین پر آ کر حملہ کرتے رہے ہیں۔ کچھ سال قبل جیش العدل نامی تنظیم نے ایرانی سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں کو اغوا کیا جو بعد میں پاکستان سے چھڑوائے گئے۔ علاوہ ازیں جنداللہ نامی تنظیم ایران میں دہشتگرد کاروائیوں میں ملوّث رہی جس کے تانے بانے پاکستان میں لشکر جھنگوی سے جا ملتے ہیں۔

اس کہانی میں ٹوسٹ (twist) تب آیا جب پاکستان نے عبدالمالک ریگی کی مخبری کی جس کی وجہ سے ایران اس کو پکڑنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ بتاتا چلوں کہ عبدالمالک ریگی ایرانی بلوچستان میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوّث تھا اور عرصے سے ایران کو مطلوب تھا۔ بعد میں ریگی کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایرانی اور پاکستانی بلوچستان میں ریاست مخالف عناصر درحقیقت ایک ہیں اور ایک دوسرے کی تقویت کرتے ہیں، یہ عناصر مل کر گریٹر بلوچستان کے لئے کوشاں ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ایران اور بلوچستان سے آزادی حاصل کر کے بارڈر کے دونوں طرف بلوچستان کو ملا کر ایک بڑی ریاست تشکیل دی جائے۔

ایرانی بلوچ دہشتگرد کاروائی کر کے پاکستان میں پناہ لیتے ہیں اور پاکستانی بلوچ علحدگی پسند یہاں کاروائی کر کے افغانستان یا ایران چلے جاتے ہیں۔ دونوں اطراف کے بلوچستان میں حساسیت کی وجہ سے دونوں ریاستیں کھل کر بلوچوں کے خلاف کاروائی سے گریز کرتی ہے جس کا نقصان دونوں کو ہوتا ہے۔

جو افراد اس حقیقت سے آشنا نہیں ہیں وہ ان سانحات کو غلط رخ دے رہے ہیں۔ بحمدللہ دونوں پڑوسی ممالک کے معاملات بحسن و خوبی طے ہو گئے ہیں۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ ہم اپنی دو تہائی سرحدوں پر کشیدگی کا شکار ہیں، لہذا ہمیں ایک تہائی سرحد پر اطمینان کی اشد ضرورت ہے۔ کاش یہ بات سب کو سمجھ آ جائے۔

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*