دہشت گردی کو مذہبی رنگ دے کر اسے تباہ کن بنانے کی تاریخ – دوسری قسط

دہشت گردی کے لئے متنازعہ مذہبی نظریات کا استعمال:

نفسیات کے پروفیسر کلارک آر میکاولی نے اپنے مضمون میں دہشت گردی کی تعریف و توصیح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ عموماً دہشت گردی کی وضاحت یوں کی جاتی ہے کہ کسی سیاسی یا ذاتی مقصد کے حصول کے لیے تشدد کا استعمال یا استعمار کی دھمکی ایک بڑے گروپ کے خلاف چھوٹے گروپ کی جانب سے ہو تو دہشت گردی کہلاتی ہے۔ اس میں چھوٹے گروپ کے لوگ بڑے گروپ کے غیر مسلح افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔ پروفیسر نے دہشت گردی کی تعریف واضح کرتے ہوئے صرف امریکی و یہودی مفادات کو پیش نظر رکھا ہے۔

سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فلپ زمباڈو کا خیال ہے کہ دہشت گردی میں عام آبادی کو خوف زدہ کیا جاتا ہے لوگوں کے خود پر موجود اعتماد کو مجروح کیا جاتا ہے اور ایک محفوظ اور آرام دہ دنیا کو خارزار میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ دہشت گرد غیر متوقع طور پر تشدد کی کارروائی کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ پروفیسر زمباڈو مزید کہتے ہیں کہ دہشت گرد لوگوں کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے اس صورت میں یا تو مقابلہ کیا جاتا ہے یا گریز اختیار کیا جاتا ہے۔

منظور الحسن صاحب نے دہشت گردی کی ایک تعریف مستنبط کی ہے جو کچھ یوں ہے:

’’انسان خواہ مقاتلین ہوں یا غیر مقاتلین، ان کے خلاف ہر وہ تعدی دہشت گردی قرار پائے گی جس میں یہ تین شرائط پائی جاتی ہوں۔ کارروائی دانستہ ہو۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہو۔ قانونی لحاظ سے ناحق ہو۔‘‘

اسلامی تاریخ میں دہشت گردی کے دو محور رہے ہیں۔ ایک مکانی اور دوسرا فکری، مکانی محور خطہء نجد سے عبارت ہے جب کہ خارجیت، دہشت گردی کے فکری محور کی نمائندگی کرتی ہے۔ دہشت گردی زلزلوں اور فتنوں کی زمین نجد کے خمیر کا حصہ رہی ہے۔ نجد کے بے آب و گیاہ صحرا میں نہ صنعت تھی نہ کوئی تجارت، موسم کی شدت اور ماحولیات کی خشکی وہاں کے رہنے والوں کے مزاج و طبیعت کا حصہ بن گئی تھیں۔ اس خطہ کے لوگ ماضی قدیم سے لوٹ مار اور قتل و غارت گری کو ذریعہء معاش بنائے ہوئے تھے، جو ہر زمانے میں اس خطے کی سب سے بڑی صنعت رہی ہے۔ تاریخ کے مختلف حصوں میں کئی تحریکوں نے اہل نجد کی اس صورت حال کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا۔ ان میں خارجی، باطنی اور وہابی تحریک سر فہرست ہیں۔

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*