شکارپور میں داعش کا نیٹورک موجود ہے – پولیس

شکارپور: ایڈیشنل ڈی آئی جی سکھر ڈاکٹر جمیل احمد نے ایک نجی چینل کو انٹریو دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ شکارپور میں داعش کے درجنوں افراد موجود ہیں تاہم ان کی اصل تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

ڈاکٹر جمیل احمد نے پولیس آپریشن کے دوران مارے جانے والے حفیظ بروہی اور عبداللہ بروہی کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ حفیظ بروہی داعش کا آپریشن کمانڈر تھا اور عبداللہ بروہی سندھ اور بلوچستان کا ہیڈ تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان دہشتگردوں نے سندھ اور بلوچستان میں مختلف دہشتگردانہ کاروائیوں کے دوران پانچ سو سے زیادہ افراد کو شہید کیا جبکہ سانحہ سہون، سانحہ شکارپور اور سانحہ شاہ نورانی میں دھماکوں کے پیچھے بھی یہی گروہ ہے۔

صحافی کے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان دہشتگردوں کا گڑھ ضلع شکارپور کی تحصیل خانپور میں ہے۔

ایڈیشنل ڈی آئی جی نے بتایا کہ ان دونوں دہشتگردوں کے پولیس مقابلے میں مارے جانے کے بعد ہم نے ان کے چار بڑے اہم ممبر بھی گرفتار کیئے ہیں جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اور حساس اداروں کیساتھ مل کر اس نیٹورک کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں۔

 

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*